اہم خبریںپاکستان

انتخابات سے قبل میرے خلاف فیصلہ ضروری یا مجبوری ہے تو پھر کر دیجیے :نواز شریف

لاہور: نواز شریف نے کہا ہے کہ میرے بنیادی حقوق بری سلب کیے جارہے ہیں اور اپنے حق دفاع سے محروم کیا جا رہا ہوں ،ایسا ماحول بنایا جارہا ہے کہ میں وکیل کی خدمات سے بھی محروم ہوگیا ہوں۔
احتساب عدالت نے نیا وکیل کرنے کا کہا لیکن کوئی بھی وکیل اتنی کڑی شرائط پر کام کرنے کو تیار نہیں اور یہ ممکن نہیں کہ وکیل کل وکالت نامہ جمع کروائے اور پرسوں شروع کردے،پانامہ کے نام سے شروع ہونے والے کھیل کی یہ آخری قسط کی ظلم اور نا انصافی انتہائی افسوسناک ہے ۔
ملک کا آئین توڑنے ، آرٹیکل 6کے تحت غداری کا مرتکب ہونےوالے ڈکٹیٹر کی کس طرح بلائیں لی جا رہی ہیں مگر اہلیہ کی عیادت کے لئے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ۔
ان حالات میں کس توقع کے ساتھ اپیل میں جاﺅں گا اور کس کے پاس جاﺅں گا ،اگر 25جولائی کے انتخابات سے قبل میرے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا ضروری یا مجبوری ہے تو پھر فیصلہ کر دیجیے ، اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ قانون و انصاف ، آئینی تقاضوں ، بنیادی انسانی حقوق اور عدالتی روایات کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ وز ماڈل ٹاﺅن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر و سابق وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ، راجہ ظفر الحق ، شاہد خاقان عباسی ، خواجہ آصف ،مریم نواز اور آصف کرمانی سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close