پاکستان

ماہ صیام کے بعد ہماری زندگی

رمضان ہم میں تقوی پیدا کرکے اسے منظم کرتا اور ہمیں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی سکھاتا ہے۔
اسلام کی تمام عبادات کا مقصد خشیت الٰہی ہے۔ عبادات سے انسان میں پاکیزگی اور اللہ کی عظمت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یوں تو تمام عبادات اللہ کی خوش نودی کا ذریعے ہیں مگر روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کو نکھار کر کندن بناتا ہے، جسے ہم تقوی کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جو خالصتاً اللہ رب العزت کی رضا کے لیے ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ روزے کا اجر میں خود ہوں۔

رمضان میں عبادات کا شوق بڑھ جاتا ہے، لیکن بدنصیبی اور محرومی ہے کہ رمضان کے بعد ہم ویسے کے ویسے ہوجاتے ہیں۔ کسی کی نیت پر شک تو نہیں کیا جاسکتا لیکن جو رمضان کے بعد کے مظاہر ہیں اس سے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے روزے کو ایک دکھاوے کی عبادت بنا دیا ہے۔ ہم پورے رمضان کے روزے رکھتے ہیں مگر نہ تو ہمیں ان روزوں سے کوئی جسمانی فوائد مل رہے ہیں نہ روحانی ترقی ہو رہی ہوتی ہے اور نہ ہی معاشرتی برائیوں اور گھناونے اعمال سے نجات مل رہی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے۔۔۔۔۔ ؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close