پاناما پیپرز کی نئی تفصیلات منظرعام پر آگئیں

0
24

اسلام آباد: پاناما پیپرز کی نئی سنسنی خیز تفصیلات منظرعام پرآگئی ہیں اور اِن نئی معلومات میں اپریل 2016 سے دسمبر 2017 تک کی 12 لاکھ دستاویزات شامل ہیں۔

دستاویزات میں 2016 سے 2017 تک ای میلز، پاسپورٹس، اور مقدمات کی فائلیں شامل ہیں۔ پاناما میں آف شور کمپنیاں بنانے میں معاون قانونی فرم موزیک فونسیکا اپنے 75 فیصد کلائنٹس سے بےخبرتھی۔ نئی دستاویز میں ہونے والے انکشاف کے مطابق پاناما پیپرز کمپنی برٹش ورجن آئی لینڈ میں 70، پاناما میں 75 فیصد مالکان شناخت نہ کرسکی۔ کمپنی نےاپنے کلائنٹس ڈھونڈنے کےلیے 2016 میں سرتوڑ کوششیں کی۔، اس کے علاوہ موزیک فونسیکا اپنے موکلوں کی شناخت میں مصروف رہی۔ ریکارڈ افشا ہونے کے 2 ماہ بعد بھی فونسیکا پاناما کی 75 فیصد آف شور کمپنیوں کے مالکان کی شناخت نہ کرسکی۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق موزیک فونسیکا نے 2016 میں لیک اپنے موکلوں کی ساڑھے 11 ملین فائلیں دیکھیں۔ نئی دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ موزیک فونسیکا نے موکلوں سے تعلق کو چھپانے کےلیے اپنا کاروباری نام بدلا اور ساموا میں سینٹرل کارپوریٹ سروسز کا نام اختیار کیا۔ فونسیکا نے کمپنی مالکان سے پاسپورٹ کاپی، گیس بل اورریفرنس لیٹر بھی اچانک مانگناشروع کردیئے۔ موزیک فونسیکا نے ہردوسرے روز موکلوں کو ای میل پر ای میل بھیجنا شروع کردیں۔
اپریل 2016 کو پاناما پیپرز سامنے آتے ہی موزیک فونسیکا پر پریشان موکلوں کی ای میلز کا تانتا بندھ گیا۔ نئی دستاویزات کے مطابق بیشتر پریشان موکل یہ جاننا چاہتے تھے کہ ”بینی فیشل اونرشپ“ سے متعلق حساس معلومات افشا تو نہیں ہوگئیں۔ سوئس وکیل نے کمپنی کو فوری بند کرنے کی درخواست کی جس پر فونسیکا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بینک کاریفرنس لیٹر دیں جس پر سوئس وکیل نے جواب دیا پاناما میں تم احمق بیٹھے ہو، قانون کے تحت ہو تو ریگولیٹر تمھیں بند کرڈالے۔

سوئس مینیجر کی جانب سے بھیجی جانے والی ای میل میں کہا گیا کہ ای میلزبھیج کرتم قائل کرنےکی کوشش کررہے ہو کہ صورتحال پرقابوپالوگے، 11 لاکھ 60 ہزار دیگر دستاویزات کی طرح یہ دستاویزات بھی شاید سامنےآجائیں، پروا نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here