قرض معافی کیس: قوم کا پیسہ نہ لا سکے تو کرسی پر بیٹھے کا حق نہیں: چیف جسٹس

0
12

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر قوم کے پیسے واپس نہ لا سکے تو کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

گزشتہ روز چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قرضہ معافی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم قرض معافی سے متعلق تمام 222 مقدمات بینکنگ کورٹس کو بھجوا دیتے ہیں، بینکنگ کورٹس خود جائزہ لیں گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم خود کوئی مارک اپ طے کریں ¾تمام فریقین کو ایک موقع فراہم کرتے ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ قرض معاف کرانے والے 25 فیصد پرنسپل رقم ادا کریں ¾یہ پیشکش قبول نہ کرنے والوں کے مقدمات بینکنگ کورٹس بھجوا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بینکنگ کورٹس کو 6 ہفتوں میں مقدمات کا فیصلہ کرنے کی ہدایت دیں گے ¾اس کے علاوہ 25 فیصد قرض معافی کی رقم سپریم کورٹ کا اکاو¿نٹ کھول کر 3 ماہ میں جمع کرانے کا حکم دیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قرض معاف والی رقوم صوابدیدی فنڈز میں نہیں جانیں دیں گے، بریف کیس میں ڈال کر کیش کی صورت میں یہاں لے آئیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس قوم نے بڑے قرض اتارنے ہیں ¾ہم نے قوم کے پیسے واپس لانے ہیں، خود نمائی مقصد نہیں ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس سے متعلق سماعت (آج) 27 جون بدھ تک ملتوی کردی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here