مصنوعی بازو میں درد محسوس کرنے والی جلد تیار

0
13

نیویارک: ماہرین نے الیکٹرانک جلد تیار کی ہے جو مصنوعی بازوو¿ں میں درد اور چھونے کا احساس جگاتی ہے، ’ای ڈرمِس‘ نامی اس جلد میں جابجا برقی سنسر لگے ہیں جو مصنوعی بازو پہننے والے معذور افراد کو ایک جانب چھونے کا احساس دلائیں گے تو دوسری جانب وہ درد بھی محسوس کرسکیں گے۔

اس جلد میں خاص کپڑا اور ربر لگایا گیا ہے جس میں الیکٹرانک سنسر سموئے گئے ہیں۔ مصنوعی جلد ٹی ای این ایس (ٹرانس کیوٹینس الیکٹرک نرو سیمولیشن) طریقے کے ذریعے پہننے والے کو کئی طرح کے ایسے احساسات دیتی ہے جو اصل جلد والے ہاتھوں سے ہی ممکن ہیں۔

’آسیبی عضو‘ یا فینٹم لمِب ایک طرح کا احساس ہے اور یہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے ہاتھ یا پاو¿ں کٹ چکے ہوں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ جیسے ان کے ہاتھ اور پیر موجود ہیں۔ ماہرین نے کئی گھنٹوں تک ای ای جی لے کر کہا ہے کہ شاید فینٹم لمب کا احساس واقعی موجود ہو اور اسی بنیاد پر یہ برقی جلد بنائی گئی ہے۔

ماہرین نے اپنے ریسرچ پیپر میں لکھا ہے کہ عضو سے محروم ہونے والے کئی افراد اپنے کٹے ہوئے اعضا پر دباو¿ اور حس محسوس کرتے ہیں جن میں کچھ برقی سرسراہٹ بھی ہوتی ہے۔ بسا اوقات یہ لوگ قابلِ برداشت درد بھی محسوس کرتے ہیں۔ اس جلد کے ذریعے پہننے والا کسی خاص انگلی کو چھونے کا احساس کرسکتا ہے۔

اس تحقیق کے مرکزی سائنس داں پروفیسر نتیش ٹھاکر کہتے ہیں کہ پہلی مرتبہ کسی معذور شخص کو مصنوعی جلد کے ذریعے چھونے کا اعلیٰ احساس دینا ممکن ہوا ہے جو عین اصل انسانی ہاتھ جیسا احساس جگاتا ہے۔

اس پر کام کرنے والے ایک اور بایو میڈیکل طالب علم لیوک اوسبرن نے بتایا کہ برقی جلد بازارمیں دستیاب کئی طرح کے مصنوعی بازوو¿ں میں بآسانی فٹ ہوجاتی ہے۔ اسے پہن کر ہاتھ پاو¿ں سے محروم افراد کانٹا چبھنے کو بھی محسوس کرسکتے ہیں، جب یہ جلد ایک مصنوعی بازو والے رضاکار کو لگائی گئی تو اس نے کہا کہ میرے بے جان ہاتھ میں اب زندگی پیدا ہوچکی ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے درجہ حرارت نوٹ کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔ دوسری جانب اسے خلا نوردوں کے لباس کی تیاری میں بھی استعمال کرنا ممکن ہوگا۔

اس جلد کے احساس کو براہ راست ہاتھوں کی نسیجوں تک پہنچایا جاتا ہے جس کے بعد وہ اسے محسوس کرسکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here