بین الاقوامی

روہنگیا مسلمانوں کی میانمار واپسی غیر محفوظ ہے،چیئرمین ریڈ کراس

ابھی پناہ گزینوں کی واپسی اور ان کے تحفظ کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے،پیٹر ماوریر

ڈھاکہ:انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروپ ریڈ کراس کے چیئرمین پیٹر ماوریر نے کہا ہے کہ شمالی میانمار کی راکھین ریاست بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے مسلمان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے تیار نہیں۔میانمار کی فوج کی جانب سے منظم مہم کے تحت راکھین ریاست سے ہزاروں خاندانوں کو بے دخل کر دیا گیا ہے اور ابھی تک وہاں پر واپسی کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق قبل ازیں میانمار نے کہا تھا کہ وہ گذشتہ برس بنگلہ دیش فرار ہونے والے 7 لاکھ مسلمانوں کی واپسی کے لیے تیار ہے۔ برما کی حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس نے راکھین ریاست میں پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے استقبالیہ کیمپ لگائے ہیں مگرحال ہی میں ریڈ کراس کمیٹی کے چیئرمین نے علاقے کا دورہ کیا۔ واپسی پرانہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ فی الحال پناہ گزینوں کی روہنگیا واپسی کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں تاہم عن قریب ایسا ممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی پناہ گزینوں کی واپسی اور ان کے تحفظ کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ پیٹر ماوریر کا کہنا تھا کہ روہنگیا میں مسلمان مہاجرین کی واپسی کے لیے قائم کردہ استقبالیہ کیمپوں میں کافی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، جس نوعیت کی تیاریاں کی جانی چاہئیں وہ نہیں کی گئی ہیں۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close