پاکستان

نواز شریف کی فیصلہ موخر کرنے کی استدعا

عدالت فیصلہ موخر کردے،خود سننا چاہتا ہوں،لندن میں میڈیا سے گفتگو

لندن: نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ چند روز کے لیے موخر کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے کیس کا فیصلہ عدالت میں کھڑے ہوکر سننا چاہتا ہوں۔لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’کسی بھی قانونی طریقہ کار سے انحراف نہیں کیا، جولائی 2017 سے لے کر اب تک یکطرفہ فیصلوں کا سامنا کیا اور ساری دنیا میرے خلاف بنائے ہوئے مقدمات کی نوعیت سے واقف ہے۔

انہوں نے ایون فیلڈ ریفرنس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ چند روز کے لیے موخر کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنے کیس کا فیصلہ اسی کمرہ عدالت میں کھڑے ہو کر سننا چاہتا ہوں جہاں میں نے اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ 100 سے زائد پیشیاں بھگتی ہیں، ہماری عدالتوں میں غیر ضروری طور پر کئی کئی ماہ کیسز کے فیصلے محفوظ رکھنے کی روایت موجود ہے لیکن میں مہینوں کی نہیں صرف چند روز کی بات کر رہا ہوں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں کوئی فوجی ڈکٹیٹر نہیں جو ڈر کر بھاگ جاوں، عوام کا نمائندہ ہوں بھاگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور کسی بھی بزدلی کا مظاہرہ کرکے اپنی قوم کو مایوس نہیں کروں گا، جیسے ہی اہلیہ کی طبیعت بہتر ہوگی فوری طور پر ملک واپس جاو¿ں گا جبکہ امید ہے کہ کچھ روز میں بیگم کلثوم نواز خطرے سے باہر آجائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ میں نے جس مشن کا جھنڈا اٹھایا ہوا ہے وہ آسان مشن نہیں، لیکن میں عوام کے حق حکمرانی اور ان کے ووٹ کی عزت کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں، ’ووٹ کو عزت دو‘ کے مشن میں قوم کے ساتھ اور قوم میرے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’عوام 25 جولائی کو سب فیصلوں سے بڑا فیصلہ سنانے جارہے ہیں، قوم کا فیصلہ قوم کی تقدیر بدل ڈالے گا اور اس فیصلے کی گونج ابھی سے سنائی دے رہی ہے، فتح عوام کا مقدر ہوچکی ہے اور ’جیپوں‘ والے سمیت عوام کا راستہ روکنے والے تمام افراد عبرت کا نمونہ بننے والے ہیں۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close