ہراسانی کا الزام، میشا شفیع کے گھر کے باہر عدالتی نوٹس آویزاں کرنے کا حکم

0
4

لاہور: سیشن کورٹ نے گلوکارہ واداکارہ میشا شفیع کے گھر کے باہر عدالتی نوٹس آویزاں کرنے کا حکم دے دیا۔لاہور کی سیشن کورٹ میں گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعویٰ کے کیس پر سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل سیشن جج شہزاد احمد نے گلوکار علی ظفر کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار علی ظفر کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ میشا شفیع نے ان پر ہراساں کرنے کے بلاوجہ الزامات عائد کیے۔

میشا شفیع نے جھوٹی شہرت کے لیے جھوٹے الزامات عائد کیے، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں میری شہرت متاثر ہوئی لہٰذا عدالت میشا شفیع کو 100 کروڑ روپے ہرجانہ اداکرنے کا حکم دے۔عدالت نے میشا شفیع کے گھر کے باہر عدالتی نوٹس آویزاں کرنے کا حکم دیتے ہوئے میشا شفیع کو 13 اگست کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے علی ظفر کے وکیل کی درخواست پر میشا شفیع کو ان کے موکل کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں جواب داخل کرنے کا کہا تھالیکن انہوں نے عدالتی حکم کے باوجود جواب داخل نہیں کروایا۔

یاد رہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر انہیں ایک سے زائد بار جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا جس پر علی ظفر نے میشا کو 100 کروڑ روپے کا لیگل نوٹس بھجوایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ میشا شفیع اپنا الزام واپس لے کر ان سے معافی مانگیں ورنہ وہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے، تاہم میشا شفیع نے معافی مانگنے کے بجائے قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کیں جب کہ وہ اب تک اپنے الزامات پر برقرار ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here