پاکستان

اپنی جدو جہد جیل سے بھی جاری رکھو نگا، نوازشریف کا اہلیہ کے ہوش میں آتے ہی وطن واپسی کا اعلان

عوام 25 جولائی کو ووٹ دےکر سازشوں کو ناکام بنادیں، ہاں میں ہاں نہ ملانے اور خوشامد نہ کر نے پر مجھے اور بیٹی کو سزا سنائی گئی، مکروہ کھیل کا حصہ بننے والوں کو پچھتانا پڑےگا:سابق وزیر اعظم

لندن:مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے اہلیہ کے ہوش میں آتے ہی وطن واپسی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اپنی جدو جہد جیل سے بھی جاری رکھونگا، عوام 25 جولائی کو ووٹ دے کر ان کےخلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنادےں، ہاں میں ہاں نہ ملانے اور خوشامد نہ کر نے پر مجھے اور بیٹی کو سزا سنائی گئی، مکروہ کھیل کا حصہ بننے والوں کو پچھتانا پڑے گا، کوئی سیاسی پناہ نہیں لے رہا  فیصلے کے بعد آئینی اور قانون حقوق استعمال کرونگا۔

استغاثہ کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں کر سکا، فیصلے میں نہیں بتایا گیا میں نے جرم کیا کیا ہے؟ کون سی چوری کی ؟ کس کی چوری کی ؟ چوری کب ہوئی ؟اور چوری کس کے خزانے سے ہوئی ؟یہ سوال پوچھے جارہے ہیں اور ہمیشہ پوچھے جاتے رہیں گے یہ سزائیں انشاءاللہ میری جدوجہد کا راستہ نہیں رو ک سکتیں  وقت بد ل چکا ہے  قوم آئین اور قانون کو جوتوں تلے روندنے والوں کا محاسبہ کرےگی  اس وقت تک جاری رکھوں گا جب تک اس ملک میں رہنے والوں کو آزادی نہیں مل جاتی جس تیزی سے میرے خلاف چلا کاش اسی رفتار سے ملک اور آئین توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی قوم میرا ساتھ دے  انشاءاللہ 2018کے انتخابات میں فتح یاب ہوگی۔

جمعہ کو احتساب عدالت میں ایون ریفرنس کیس کے فیصلے کے بعد اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہاکہ معلوم تھا کہ میں جس راستے پر چل رہا ہوں  مجھے پھولوں کے ہار نہیں پہنائے جائینگے  یہ ایک مشکل جدو جہد تھی  اس سارے دورانیہ میں ایک مرتبہ نہیں  دومرتبہ نہیں  متعدد بار مجھے پیغام دیا گیا کہ میں اور مریم نواز ملک چھوڑ کر لندن چلے جائیں ۔انہوںنے کہاکہ چند ماہ قبل جب میں لندن میں تھا تو مجھے یہ پیغام ملا کہ آپ پاکستان واپس نہ آئیں اور اپنی اہلیہ کا علاج کروائیں اور کیس خود بخود دم توڑ جائیگا ۔

نوازشریف نے کہا کہ گوکہ میری ذات کےلئے یہ راستہ آسان تھا مگر میں نے بات نہیں مانی  اپنے لئے نہیں سوچا او ر میںنے اپنی بیٹی کےلئے نہیں سوچا ۔ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہاکہ اس گھناﺅنی سازش میں شریک افراد کون ہیں ؟ ان افراد نے صرف اداروں کو پامال کیا بلکہ آئینی حلف سے غداری کے بھی مرتکب ہوئے ہیں ۔نوازشریف نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ اندھی طاقت کے بل بوتے پر یہ لوگ بچ جائیں گے تو وہ جان لیں کہ وقت بدل چکا ہے  آئین اور قانون کو جوتوں تلے روندنے والوں کا نہ صرف قوم محاسبہ کرے گا بلکہ ان کے سیاسی آلہ کار بننے والوں کا بھی محاسبہ ہوگا ۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میرے خلاف ہر وہ ہتھکنڈہ آزمایا گیا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی  میں نے صرف 109پیشیاں ہی نہیں بھگتیں بلکہ اپنے خلاف غداری کے فتوے بھی سنے  مسلم لیگ (ن)کے رہنماﺅں اور کارکنوںپر جبر بھی بر داشت کئے ہیں ۔ نوازشریف نے کہاکہ جس جدوجہد کا میں نے آغاز کیا ہے اس میں اسی طرح کے فیصلے آتے ہیں اور سزائیں دی جاتی ہیں  کوئی پھانسی چڑھتا ہے  کوئی جلا وطن ہوتا ہے  کسی کو ہتھکڑیاں لگتی ہیں  کوئی قلعوں میں قید ہوتا ہے  کسی کو ہائی جیکر قرار دیا جاتا ہے  کسی کو وزارت عظمیٰ سے نکال باہر کیا جاتا ہے کوئی تاحیات نا اہل قرار پاتا ہے اور کسی کو غداربنایا جاتا ہے ۔

نوازشریف نے کہا کہ سیاسی اور بعض مذہبی پارٹیوں سے دھرنے کروائے جاتے ہیں  وزیر اعظم پر استعفیٰ دینے کےلئے دباﺅ ڈالا جاتا ہے  میڈیا کو جبراً خاموش کرایا جاتا ہے  کیبل آپریٹرز کو دھمکا کر چینل بند کرائے جاتے ہیں  اخبارات کو عوام تک پہنچانے سے زبردستی روکا جاتا ہے  صحافیوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جاتاہے مارا پیٹا جاتا ہے سڑکوں پر روک کر شدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ کچھ سال پہلے ایک کو مار کر دریا میں لاش پھینک دی گئی ۔ نوازشر یف نے کہا کہ میڈیا کے اداروں کو مالی نقصان پہنچایا جاتا ہے  سیاسی پارٹیوں کی توڑ پھوڑ کا ارتکاب ہوتا ہے  سیاسی وفاداریاں بندوق اور دھونس اور دھاندلی کے زور پرتبدیل کروائی جاتی ہیں  ہمارے امیدوار ناہل کروائے جاتے ہیں نیب کو گھناﺅنے کھیل کا آلہ کار بنایا جاتا ہے  مسلم لیگ (ن)کے خلاف پوری طرح سے استعمال کیا جاتا ہے  مسلم لیگ (ن )کے سینٹ کے امیدواروں کو پارٹی کے انتخابی نشان سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔ نوازشریف نے کہاکہ آپ جانتے ہیں بلوچستان حکومت گرائی جاتی ہے  ایک گمنام شخص کو چیئر مین سینٹ بنا دیا جاتاہے ۔

عدالتی فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے نوازشریف نے کہاکہ یہ سزاکسی کرپشن پر نہیں سنائی گئی ہے  میں نے ابھی تک فیصلہ نہیں پڑھا اور ضرور پڑھونگا تاہم میڈیا کے ذریعے سنا ہے کہ فیصلے میں لکھا گیاہے کہ استغاثہ کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں کر سکا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close