صحت

اسپرین کی گولی دماغی امراض سے بھی بچاتی ہے

شکاگو: ایک نئے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ کئی امراض سے بچانے والی جادوئی اسپرین کی گولی اب دماغ میں جھاڑو کا کام کرتے ہوئے فاسد مواد کو باہر نکالتی ہے اور اس طرح وہ الزائیمر اور ڈیمنشیا جیسے مرض کے خطرے کو ٹالتی ہے یا الزائیمر کے مرض کی شدت کو بھی کم کرتی ہے۔چوہوں پر کیے گئے تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسپرین دماغ کے ان زہریلے پروٹین کو ختم کرتی ہے جو صحت کے دماغی خلیات کو تباہ کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اسپرین کی کم مقدار بھی بہت مو¿ثر ثابت ہوتی ہے۔

شکاگو میں رش یونیورسٹی کے میڈیکل سینٹر میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے چوہوں پر تجربات میں ثابت کیا ہے کہ اسپرین دماغ سے خلیات کے درمیان فاسد مواد کو صاف کرتی ہے اور الزائیمر سمیت کئی امراض کو دور کرتی ہے۔ انہیں امید ہے کہ چوہوں کے بعد انسانوں پر بھی یہ تجربات کامیاب رہیں گے۔رش یونیورسٹی کے پروفیسر کالی پاڈا پاہن نے بتایا کہ الزائیمر کو بڑھنے سے روکنے والی کوئی دوا ہمارے پاس نہیں لیکن اسپرین اس میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ امائی لوئڈ بی ٹا پر مبنی فاسد خلوی مواد دماغ میں جمع ہوتا ہے اور یہ ٹاو¿ پروٹین کی وجہ سے بنتا ہے۔ اس سے دماغ کے صحت مند خلیات تباہ ہونے لگتے ہیں اور الزائیمر سمیت کئی امراض جنم لیتے ہیں۔

اس تناظر میں اسپرین اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اسپرین کا مسلسل استعمال دل، کینسر اور ڈیمنشیا جیسے امراض کو بھی دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے علاوہ ازیں اسپرین جسم کی اندرونی سوزش بھی کم کرتی ہے۔اب معلوم ہوا ہے کہ یہ دماغ میں یادداشت کے اہم مقام ’ہپوکیمپس‘ میں جمع ہونے والے امائی لوئڈ بی ٹا کو صاف کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پروٹین بڑھتا ہے تو الزائیمر کا مرض جنم لیتا ہے۔ اسپرین ایسے کیمیکلز کو بڑھاتی ہے جو نیورونز صاف کرتے اور دماغ سے مضر مواد کو نکال باہر کرتے ہیں۔ اس طرح اسپرین اس خطرناک مرض کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close