پاکستان

مریم کا13جولائی کو نواز شریف سمیت واپسی کا اعلان

نواز شریف کا احتساب مشرف دور میں بھی ہوا، پرویز مشرف بھی نواز شریف کے خلاف کچھ ثابت نہیں کرسکا، پورا فیصلہ مفروضات پردیا گیا، مریم کی لندن میں میڈیا سے گفتگو

لندن: سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے جمعہ 13 جولائی کو والد کے ساتھ وطن واپسی کا اعلان کردیا اور کہا کہ احتساب عدالت کا فیصلہ مفروضوں پر مبنی اور مضحکہ خیز ہے، کرپشن اور منی لانڈرنگ سے بری کرنے کے باوجود سزا دی گئی۔لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ’ریڈ وارنٹس کو اپنے پاس رکھیں، ان کو ڈکٹیٹرز کے لیے سنبھال رکھیں۔

مریم نواز نے کہا کہ ’پہلے ہمارا فیصلہ تھا کہ والدہ کے ہوش میں آنے تک واپس نہیں آئیں گے، ڈاکٹرز نے امید دلائی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں والدہ ہوش میں آجائیں گی لہٰذا ہم جمعے کو پاکستان واپس آئیں گے۔مریم نواز نے ایون فیلڈ ریفرنس پر احتساب عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’فیصلے میں لکھا ہے کہ نوازشریف نے کوئی کرپشن نہیں کی، فیصلے میں لکھا ہے کہ کرپشن کا ثبوت نہیں ملا مگر اس کے باوجود بھی سزا دی گئی۔مریم نواز نے کہا کہ ’نواز شریف پر کرپشن، منی لانڈرنگ کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا، کرپشن، منی لانڈرنگ کے الزامات سے نوازشریف کو بری کردیا گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف کا احتساب مشرف دور میں بھی ہوا، پرویز مشرف بھی نواز شریف کے خلاف کچھ ثابت نہیں کرسکا، پورا فیصلہ مفروضات پردیا گیا‘۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز اور نواز شریف 13 جولائی کو لندن سے لاہور پہنچیں گے۔شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز ایئرپورٹ پر پارٹی کے قائد کے استقبال کی تیاریوں کے انچارج ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی ٹکٹ ہولڈرز کو نواز شریف کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قبل ازیں صحافیوں سے گفتگو میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے کہا تھا کہ عدالتی فیصلے کا وکلاءجائزہ لے رہے ہیں اور ہم 10 دن سے پہلے ہی وطن واپس آجائیں گے،دریں اثناءسزا ہونے پر وزارت داخلہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کا نام بلیک لسٹ میں شامل کردیا۔واضح رہے کہ بلیک لسٹ میں نام کے اندراج کے بعد کیپٹن (ر) محمد صفدر بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے۔

جبکہ ان کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر پاکستان میں ہی موجود ہیں ذرائع کے مطابق کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرنے کے لیے نیب کی ٹیموں نے ہری پور اور ایبٹ آباد میں چھاپے مارے ہیں۔ نیب کے ہمراہ خیبر پختون خوا انتظامیہ اور پولیس بھی موجود ہیں۔ یہ چھاپے محمد صفدر کی رہائش گاہوں پر مارے گئے ہیں تاہم گرفتاری عمل میں نہیں آسکی گرفتاری کے لیے ہری پور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں ٹیمیں تعینات ہیں اور یہ ٹیمیں کیپٹن صفدر کی گرفتاری تک وہیں تعینات رہیں گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close