بین الاقوامی

تاج محل کی مسجد میں غیر مقامی افراد کے نماز پڑھنے پر پابندی عائد

فیصلے کی رو سے صرف آگرہ کے رہائشیوں کو شناخت کے بعد مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت دی جائے گی

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے تاج محل سے ملحقہ مسجد میں غیر مقامی افراد کو نماز کی ادائیگی سے روک دیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں تاج محل سے متصل جامع مسجد میں غیر مقامی افراد کے نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی ہے۔ فیصلے کی رو سے صرف آگرہ کے رہائشیوں کو شناخت کے بعد مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت دی جائے گی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ تاج محل دنیا کے سات عجائب میں سے ایک ہے یہ ایک قومی ورثہ ہے جس کی حفاظت ہم سب پر لازم ہے اس لیے تاج محل سے ملحقہ مسجد میں سیاحوں اور غیر مقامیوں کی نماز کی ادائیگی سے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور نماز جمعہ کے وقت زیادہ رش کے باعث خوبصورت تاج محل کو نقصان پہنچنے کا بھی احتمال رہتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مقامی مجسٹریٹ کی عدالت نے بھی اسی قسم کی پابندی عائد کی تھی جس پر ایک شہری نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے مقامی انتظامیہ کے فیصلے کی توثیق کی۔ ایسا ہی فیصلہ 2013 میں محکمہ ثقافت کی جانب سے بھی سامنے آیا تھا تاہم اس پر عمل در آمد نہیں ہوسکا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close