کاروبار

سمگلنگ وٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال پر7سال قید

غیرقانونی اشیا کی ترسیل میں استعمال ہونے والی گاڑیاں اور غیرقانونی اشیا ضبط کرکے اشیا کی مالیت سے 10گنا زائد جرمانے عائد کیے جائیںگے، ایف بی آرحکام

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اسمگلنگ اورافغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال میں ملوث تاجروں پر بھاری جرمانے اور 7سال تک قید کی سزائیں دینے کا قانون نافذ کردیا ہے۔ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا کہ فیلڈ فارمشنز کو فنانس2018 کے تحت کسٹمز ایکٹ کی سیکشن 156کے پارٹ بی میں شامل کی جانے والی نئی کلاز 63(i) کا یکم جولائی سے اطلاق کردیا گیا ہے اور آئندہ اسی شق کے تحت اسمگلنگ کے کیسوں کو ڈیل کیا جائے گا۔ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے مطابق غیرقانونی اشیا کی ترسیل میں استعمال ہونے والی گاڑیاں اور غیرقانونی اشیا ضبط کرکے اشیا کی مالیت سے 10گنا زائد جرمانے عائد کیے جائیںگے۔

فنانس ایکٹ 2018 کے ذریعے کسٹمز ایکٹ 1969کی سیکشن 156کے پارٹ بی میں شامل کی جانے والی نئی کلاز 63(i) میں کہا گیاکہ اگر کسی گاڑی میں ٹرانسشپمنٹ کے لیے لوڈ کیا ہوا سامان اپنے اصل مقام پر پہنچنے کے بجائے راستے میں کسی جگہ اتارا جاتا ہے اور وہ پکڑا جاتا ہے تو وہ سامان اور سامان لے جانے والی گاڑی ضبط کرٍلی جائے گی۔اسی طرح اگر وہ سامان ممنوع ہوگا یا پلفرڈ ہوگا تو اس صورت میں بھی سامان ضبط کرنے کے ساتھ درآمد کنندہ، نگران اور بانڈڈ کیرئیر کے خلاف کاروائی ہوگی گاڑی اور سامان ضبط کرکے اشیا کی مالیت سے 10گنا زیادہ جرمانہ عائد کیا جائے گا اور مزید سزا کیلیے اسپیشل جج کے سامنے کیس چلایا جائیگا اور اس کیس میں 7سال تک سزا دی جاسکے گی۔

اسی طرح اگر اشیا کی درآمد کے لیے سامان کی ٹرانسشپمنٹ کیلیے ٹرانسشپمنٹ رولز کی خلاف ورزی کی جائے گی تو خلاف ورزی کے مرتکب شخص، ان لینڈ کیریئر اور نگران پر 5 لاکھ روپے تک جرمانہ یا درآمدی سامان پر عائد ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مالیت سے 3گنا زیادہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close