ارجنٹینا میں پہلے دیو قامت ڈائنوسار کی باقیات دریافت

0
4

ارجنٹینا: ارجنٹینا میں ڈائنوسار کا خلائی شٹل جتنا بڑا اور اب تک کا سب سے عظیم الجثہ ڈھانچہ دریافت ہوا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ارجنٹینا میں ڈائنوسار کی ایک نئی قسم دریافت ہوئی ہے جسے عظیم الجثہ ہونے کے باعث ’انجینشیا پرائما‘ (Ingentia prima) کا نام دیا گیا ہے۔ اس لاطینی لفظ کا مطلب ’اولین دیوقامت جانور‘ ہے۔ تین کروڑ سال قدیم اس جانور کا وزن 10 ٹن کے لگ بھگ رہا ہوگا جو گروہ کی شکل میں رہنا پسند کرتے تھے اور سبزی خور تھے۔ماہرین رکازیات کا کہنا ہے کہ انہیںکل چار ڈائنوسارز کے ڈھانچے ملے ہیں جو اب تک دریافت ہونے والے ڈائنو سارز کی ایک نئی قسم ہے اس لیے اسے نیا نام بھی دیا گیا ہے۔

یہ نام اس کی جسامت سے نسبت رکھتا ہے۔ ڈائنوسار کی یہ نئی قسم دراصل ایک گروہ ’ساروپوڈو مورفس‘ یعنی چھپکلی کے پیروں والے ڈائنوسار کی قسم والے گروہ سے تعلق رکھتی ہے۔ بعد ازاں یہ ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے چار پیروں والے جانور میں تبدیل ہوئے۔10 میٹر لمبی گردن اور چھوٹی دم والے یہ ڈائنوسار زمین پر چلنے والے جانوروں میں سب سے بڑے اور وزنی جانور تھے۔ ان کی سب سے اہم خاصیت ہڈیوں میں افزائش کے ہالوں اور پرندوں جیسے پھپھڑوں کی مدد سے تیزی سے نشوونما حاصل کرنا تھی۔

پرندوں جیسے پھپھڑے دیوقامت مخلوق کے درجہ حرارت کو کنٹرول میں خصوصی اہمیت رکھتے جس کی وجہ سے ان کی جسامت ایک خلائی شٹل کے برابر ہوجایا کرتی ہوگی۔تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عین ممکن ہے ان سے بھی دیوقامت اور عجیب الخلقت ڈائنوسار کرہ ارض پر موجود رہے ہوں جو ابھی دریافت ہونا باقی ہیں لیکن اب تک ہونے والی دریافتوں میں ارجنٹینا سے دریافت ہونے والا یہ ڈھانچہ سب سے بڑا اور وزنی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here