اہم خبریںپاکستان

ایف آئی اے آصف زرداری اور فریال تالپور کو الیکشن تک نہ بلائے:چیف جسٹس

عدالت عظمیٰ نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا : ریمارکس

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان میں مبینہ جعلی بینک اکاونٹس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو الیکشن تک نہ بلایا جائے،عدالت عظمیٰ نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے بے نامی اکاونٹ سے منی لانڈرنگ کیس میں 32 افراد کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے جن میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور بھی شامل ہیں، اسی سلسلے میں گزشتہ دنوں نجی بینک کے سابق صدر حسین لوائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے جمعرات کو مبینہ جعلی بینک اکاونٹس سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری کے وکیل ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے،دوسری جانب نجی بینک کے سابق صدر حسین لوائی کو بھی سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ آرڈر پڑھ کر سنائیں کہ اس میں کہاں لکھا ہے کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل پر ڈالا جائے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے مزید استفسار کیا کہ کیا یہ دونوں افراد ملزمان کی فہرست میں شامل ہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ ان دونوں کا نام فہرست میں شامل نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر وکلاءصفائی کو آرڈر کے سلسلے میں کوئی ابہام تھا تو پوچھ لینا چاہیے تھا  ہم نے زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم نہیں دیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ آصف زرداری اور فریال تالپور ملزم نہیں تو ای سی ایل میں نام شامل ہونے کی رپورٹ کیوں نشر ہوئی؟آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم پر الزام ہے کہ ڈیڑھ ارب روپے زرداری گروپ کے اکاونٹ میں ہیں، لیکن سابق صدر کا ڈیڑھ ارب روپے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے نے صرف یہ کہا ہے کہ ان لوگوں کے متعلق جعلی اکاونٹس کھولے گئے ہیں، ابھی ان جعلی اکاونٹس کی تحقیقات ہونی ہے۔جسٹس ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ ہم صرف یہ چاہتے تھے کہ ایف آئی اے جو تحقیقات کرے، وہ شفاف ہو اور اگر کرپشن ہوئی ہے، تو سامنے آنی چاہیے۔چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک کو اس کیس کے متعلق جواب داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمیں اپنی لیڈرشپ کا اعتبار بحال کرنا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیس کو الیکشن کے بعد رکھ لیں گے تاکہ کسی کو اعتراض نہ ہو۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ بطور اعلیٰ عدلیہ ایف آئی اے کو کہیں گے کہ کسی سے تعصب نہ کرے۔سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 6 اگست تک کےلئے ملتوی کردی۔واضح رہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے گزشتہ روز آصف زرداری اور فریال تالپور کو طلب کیا گیا تھا تاہم وکلاءکے مشورے پر وہ پیش نہیں ہوئے اور قانونی ٹیم کے ذریعے داخل کرائے گئے جواب میں الیکشن کے بعد تک کی مہلت مانگ لی تھی۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close