اہم خبریںپاکستان

الیکشن قوانین کے مطابق معاونت کرینگے:آرمی چیف

ہمارا انتخابات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، ہم صرف الیکشن کمیشن کی ہدایت پر امن و امان کیلئے کام کر رہے ہیں: ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ فوج دیگر اداروں کے ساتھ مل کر عوام کیلئے آزادانہ طور پر جمہوری حق استعمال کرنے کا سازگار ماحول یقینی بنائے گی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی الیکشن سپورٹ سینٹر راولپنڈی کا دورہ کیا جہاں انھیں عام انتخابات 2018ءکے موقع پر الیکشن کمیشن سے تعاون سے متعلق حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی۔آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج انتخابات میں سازگار ماحول یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے، ضابطہ اخلاق اور دیئے گئے مینڈیٹ میں الیکشن کمیشن سے تعاون کریں گے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فوج دیگر اداروں کے ساتھ مل کر عوام کیلئے آزادانہ طور پر جمہوری حق استعمال کرنے کا سازگار ماحول یقینی بنائے گی۔دریں اثناءسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے خصوصی اجلاس میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو ) کے نمائندے میجر جنرل آصف غفور نے بتایا ہے کہ ہمارا انتخابات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، ہم صرف الیکشن کمیشن کی ہدایت پر امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔سینیٹررحمٰن ملک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاو¿س میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں نمائندہ جی ایچ کیو، نیکٹا کو آرڈینیٹر، وفاقی سیکرٹری داخلہ و دفاع، سیکرٹری الیکشن کمیشن، چاروں صوبوں کے آئی جیز و سیکرٹری داخلہ سمیت اہم اراکین سینیٹ نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران نمائندہ جی ایچ کیو میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں اس ایوان میں بات کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ مسلح افواج ہمیشہ سول اداروں کو اپنی حمایت دیتی رہی ہیں، انتخابات کے لیے پورے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر کی جارہی ہے جبکہ الیکشن میں پرنٹنگ پریس کے لیے بھی فوج ڈیوٹی دے رہی ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمارا انتخابات میں براہ راست کوئی کردار نہیں، ہم صرف الیکشن کمیشن کی ہدایت پر امن و امان کی صورتحال کو بہتر رکھنے کے لیے کام کررہے ہیں۔

اجلاس کے دوران انہوں نے بتایا کہ 3 لاکھ 71 ہزار فوجی جوان ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنز پر تعینات ہوں گے،کچھ افواہیں تھیں کہ فوجی جوانوں کو مختلف احکامات جاری کیے گئے ہیں جو سراسر غلط ہے۔اس موقع پر سینیٹر کلثوم پروین نے نمائندہ جی ایچ کیو سے سوال کیا کہ بلوچستان میں کتنے فوجی بھیجے جارہے ہیں؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے بلوچستان میں ضرورت کے مطابق تعیناتی کی ہے، سیکیورٹی کے حوالے سے ہم نے ہر جگہ کا تجزیہ کیا ہے، پلاننگ کا معاملہ ہم پر چھوڑدیں، ہمیں پتہ ہے کہ کس جگہ کتنے بندے تعینات کرنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرنا ہے، باہمی رابطے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے جب تک پولیس کی استعداد نہیں بڑھتی،ہمیں پولیس کی ڈیوٹی بھی دینی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جب افغانستان میں انتخابات ہوئے تھے تو ہم نے سرحد کے اس طرف غیر معمولی اقدامات کیے تھے اس مرتبہ افغانستان کے صدر نے وزیراعظم اور آرمی چیف کو فون کرکے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔اجلاس کے دوران انہوں نے بتایا کہ فوج کسی سیاستدان کی سیکیورٹی کی براہ راست ذمہ داری نہیں لے رہی، سیاسی امیدواروں کی سیکیورٹی حکومت پاکستان کی اور الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے، ہم انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے لیے الیکشن کمشن کی معاونت کر رہے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close