اہم خبریںپاکستان

انتخابی معرکہ آج ہوگا،تیاریاں مکمل،فوج تعینات،عام تعطیل ہوگی

قومی اسمبلی کے 270اور صوبائی اسمبلیوں کی 570نشستوں کے لئے ساڑھے 12ہزار سے زائد امیدوار میدان میں

لاہور:پاکستان میں جمہوریت آج کامیابی کی ایک اور منزل حاصل کر لے گی ،ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کےلئے عوامی نمائندوں کا انتخاب آج ہوگا ، مسلم لیگ (ن) ، تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی میں سے کون آئندہ پانچ سال کےلئے ملک کی باگ ڈور سنبھالے گا اس کا فیصلہ 10کروڑ 59لاکھ55ہزار409مرد و خواتین ووٹرز کریں گے ، الیکشن کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیںآ عام تعطیل ہو گی ۔

پولنگ کا عمل صبح 8بجے سے شام 6بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا ، کسی بھی نا شگوار واقعہ سے نمٹنے کےلئے سرکاری ہسپتالوں کو پیشگی الرٹ کر کے تمام سہولیات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ،حساس پولنگ اسٹیشنوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر دئیے گئے ہیں جبکہ کنٹرول رومز کو بھی آپریشنل کر دیا گیا ،الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کے عمل کو شفاف بنانے کےلئے ضابطہ اخلاق جاری کردیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق آئندہ پانچ سال کےلئے نئی حکومت کے قیام کےلئے ووٹنگ آج 25جولائی بروز( بدھ ) کو ہو گی جس کےلئے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

قومی اسمبلی کے 270اور صوبائی اسمبلیوں کی 570نشستوں کے لئے ساڑھے 12ہزار سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔پنجاب میں 6کروڑ 6لاکھ72ہزار870،سندھ میں 2کروڑ23 لاکھ97 ہزار244،خیبر پختوانخواہ میں 1 کروڑ 53 لاکھ 16 ہزار 299، بلوچستان میں 42لاکھ99ہزار494،فاٹا میں25لاکھ10ہزار154جبکہ اسلام آباد میں 7لاکھ 65ہزار348رجسٹرڈ ووٹرز اپنے پسندیدہ نمائندوں کا چناﺅکریں گے ۔فوج کی نگرانی میں بیلٹ پیپرز سمیت پولنگ کادیگر سامان پریذائیڈنگ آفیسرز کے حوالے کر دیا گیا ۔الیکشن کمیشن کے مطابق عام انتخابات 2018ءکےلئے ملک بھر میں مجموعی طور پر85ہزار 307پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں ، عوام کی سہولت کیلئے ہر ایک کلو میٹر بعد ایک پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔

23ہزار 358مردانہ جبکہ 21ہزار 679پولنگ اسٹیشنز خواتین کیلئے علیحدہ بنائے گئے ہیں، خواتین اور مردوں کے 40ہزار 236مشترکہ پولنگ اسٹیشنز بھی بنائے گئے جبکہ ٹینٹ میں قائم پولنگ اسٹیشنز بھی قائم کئے گئے ہیں۔17ہزار7پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس جبکہ 20ہزار789کو حساس قرار دیا گیا ہے ۔الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کےلئے ووٹنگ کا طریقہ کار وضع کیا ہے۔انتخابی ضابطہ اخلاق کے مطابق پولنگ اسٹیشن کے نزدیک شور کرنا جس سے ووٹر پریشان ہوں، انتخابی بے ضابطگی جبکہ پریزآئڈنگ افسر یا عملے کے کام پر اثر انداز ہونے کی کوشش اور پولنگ اسٹیشن کی 4 سو میٹر کی حدود میں ووٹر کو قائل کی کوشش غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔

الیکشن ایجنٹ کے لیے مخصوص جگہ یا ارد گرد 100 میٹر کے فاصلے پر کوئی نوٹس یا انتخابی نشان، بینر یا امیدوار کے خلاف پرچم لگانا جرم ہوگا۔ووٹر نے کس کو ووٹ دیا ہے، یہ جاننے کی کوشش کرنا یا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد ایسی معلومات دینا یا ڈالے ہوئے ووٹ کی تصویر لینا یا کوشش کرنا بھی جرم تصور کیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کے مطابق ان تمام جرائم میں سیشن جج مجرم کو 3 سال قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں سنا سکے گا۔پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار پولنگ اسٹیشنز کے اطراف میں پیٹرولنگ بھی کریں گے جبکہ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی جائے گی ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close