بین الاقوامی

ترکی کا ایران کےخلاف امریکی پابندےاں ماننے سے انکار

امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں توسیع نہ کرنے اور ایران پر اقتصادی پابندی عائد ہونے کے باعث ترکی کو مشکلات کا سامنا ہے

انقرہ: ترکی نے امریکا کی جانب سے ایران پر عائد اقتصادی پابندی پر عمل نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک وزیر خارجہ مولود جاویش اوغلو نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل در آمد کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل نہیں کرے گا اور اس فیصلے سے امریکا کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔ ترکی کے اس اعلان کے بعد نیٹو اتحادیوں کے درمیان تناو میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ترکی تیل اور قدرتی گیس کی ضرورت کے لیے ایران پر انحصار کرتا ہے تاہم امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں توسیع نہ کرنے اور ایران پر اقتصادی پابندی عائد ہونے کے باعث ترکی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ جس کے بعد روس، ترکی اور ایران کی قربتیں بڑھ گئی ہیں اور خطے میں نئی صف بندی ہونے جارہی ہے۔واضح رہے امریکا نے ایران جوہری معاہدے سے خود کو علیحدہ کرنے اور ایران پر سخت نوعیت کی پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی پابندیاں اگست کے آخر تک موثر ہو جائیں گی۔ جب کہ ایران کی تیل کی برآمد پر پابندیوں کا آغاز نومبر سے ہو گا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close