بین الاقوامی

امریکا کا عراق و شام میں ایک ہزار سے زائد شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف

اتحادی فوج کی قیادت کی جانب سے یہ اعداد و شمار انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دباو کے بعد جاری کیا گیا ہے، انسانی حقوق گروپس

واشنگٹن: اتحادی فورسز کی امریکی قیادت کا کہنا ہے کہ چار سال کے دوران عراق اور شام میں داعش کے خلاف فضائی بمباری میں ایک ہزار 59 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اتحادی فوج کی امریکی قیادت نے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کے خلاف فضائی کارروائی کے دوران اگست 2014 سے جون 2018 تک اتحادی فوج نے 29 ہزار 826 فضائی حملے کیے جس میں 1059 عام شہری بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔

اتحادی فوج کی قیادت کی جانب سے یہ اعداد و شمار انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دباو کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق گروپس کا کہنا تھا کہ برسوں کی جنگ میں اتحادی افواج نے فضائی بمباری میں معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بنایا اور ان کارروائیوں کے دوران جنگی قوانین اور ضوابط کی سخت خلاف ورزی کی گئی ہے۔

دوسی جانب بین الاقوامی گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شام کے علاقے رقہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے متعلق بیان میں کہا ہے کہ فضائی بمباری سے متاثرہ علاقوں میں موجود شواہد اتحادی افواج کے اس دعویٰ کی نفی کرتے ہیں کہ عام شہریوں کی ہلاکتیں محدود تھیں اسی طرح گزشتہ ہفتے ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شام کے علاقے رقہ میں غلطیوں اور ناکام فضائی حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔علاوہ ازیں برطانوی گروپ ایئر وارز کا بھی اندازہ ہے کہ عراق اور شام میں اتحادی فورسز کے حملوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد 6 ہزار سے 10 ہزار کے درمیان ہے تاہم اتحادی افواج کی قیادت نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار کو مسترد کردیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close