اہم خبریںپاکستان

سپریم کورٹ نے سابق جنرلز راحیل شریف، شجاع پاشا کو دیا گیا این او سی طلب کرلیا

قانون کے مطابق دو سال تک کوئی افسر ملازمت اختیار نہیں کر سکتا، کیا قانون کا اطلاق فوجی افسران پر نہیں ہوتا ؟چیف جسٹس ثاقب نثار

اسلام آباد:چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف اور انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کی بیرونِ ملک ملازمت کےلئے دیا گیا این او سی طلب کرلیا ہے ۔ بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے ججز اور سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران سیکرٹری دفاع ضمیر الحسن شاہ عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا بیرون ملک چلے گئے ایسا کیسے ممکن ہوا کہ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے فوری بعد ملازمت اختیار کرلی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق دو سال تک کوئی افسر ملازمت اختیار نہیں کر سکتا جبکہ اسی طرح جنرل (ر) راحیل شریف نے بھی بیرونِ ملک ملازمت اختیار کی ہوئی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا قانون کا اطلاق فوجی افسران پر نہیں ہوتا ؟ ان افراد کو کابینہ سے اجازت لےکر بیرون ملک نوکریاں کرنی چاہیے تھیں، اس پر سیکریٹری دفاع نے کہا کہ مجھے اس 2 سال کے عرصے کے بارے میں ٹھیک سے معلوم نہیں۔
چیف جسٹس نے سیکریٹری دفاع سے مکالمہ کیا کہ ہم دیکھ لیتے ہیں کہ یہ اجازت کس طرح کی تھی، اس کی نوعیت اور معیاد کیا تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ کہا جاتا ہے حساس اداروں کے لوگ کافی اہم ہوتے ہیں، اور ان اداروں کے اعلیٰ افسران اور سربراہان کے پاس حساس معلومات ہوتی ہیں، ایسے لوگوں کو تو حفاظت دینی چاہیے۔سیکرٹری دفاع نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا اور جنرل (ر) راحیل شریف کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ان دونوں افسران کو تو سالوں تک ملک نہیں چھوڑنا چاہیے تھا اور ان کو سیکیورٹی بھی دینی چاہے تھی۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کے حوالے سے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میری اطلاعات کے مطابق جنرل پاشا خفیہ ادارے کے سربراہ تھے اور 2 سال پورے کیے بغیر متحدہ عرب امارات میں انہوں نے ایسی ہی ملازمت اختیار کی ہوئی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا فوجی افسران نے این او سی حاصل کیا تھا جس پر سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ انہیں حکومت کی جانب سے این او سی جاری کیا گیا تھا۔چیف جسٹس نے ہدایت جاری کی کہ فوج کے تمام کمیشنڈ افسران سے دہری شہریت سے متعلق حلف نامہ لیا جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close