پاکستان

ماضی کی طرح ہارس ٹریڈنگ کی روایت دہرائی گئی:حمزہ شہباز

ایوانوں میں آنے کا مقصد جمہوریت کی گاڑی کو چلانا ہے ،یہ کیسا میچ تھا کہ ایک کیپٹن آزاد اور دوسرا پابند سلاسل تھا:میڈیا سے گفتگو

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما حمزہ شہباز نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کی طرح ہارس ٹریڈنگ کی روایت دہرائی گئی، ایوانوں میں آنے کا مقصد جمہوریت کی گاڑی کو چلانا ہے ، ہمارے قائد نوازشریف کو جیل بھیج دیا گیا، یہ کیسا میچ تھا کہ ایک کیپٹن آزاد اور دوسرا پابند سلاسل تھا۔
پنجاب اسمبلی کے احاطہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جمہوریت کے لئے خوش آئند ہے کہ 25جولائی کے انتخابات کے بعد تیسری بار جمہوری حکومت آئی،جہاں دنیا میں دیکھیں جمہوریت ہی منزل ہے ،ہم نے جمہوریت کے لیے ہی جیلیں کاٹیں اور جلا وطنیاں بھی دیکھیں،سیاسی کارکن کے ناطے قوم بتانا چاہتا ہوں کہ ایوان میں حلف لینے کا مقصد صرف اور صرف جمہوریت کی گاڑی کو چلتا دیکھنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایسے انتخابات ہیں جن میں جیت کا شور دب گیا اور ہر طرف دھاندلی کے نعرے ہیں تاہم ہم آئینی کردار ادا کریں گے اور کنٹینر پر چڑھ کر گالیاں نہیں نکالیں گے۔
حمزہ شہباز نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) عددی لحاظ سے سب سے بڑی پارٹی ہے اور ثبوت ہیں کہ 90فیصد فارم 45پر دستخط نہیں ہوئے، الیکشن کا 21ارب روپیہ عام آدمی کی جیب سے گیا، فوری طور پر پارلیمانی کمیشن بنا کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے قائد نوازشریف کو جیل بھیج دیا گیا، یہ کیسا میچ تھا کہ ایک کیپٹن آزاد اور دوسرا پابند سلاسل تھا، جج نے فیصلے میں لکھا نواز شریف کے خلاف کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔
حمزہ شہباز نے کہا کہ ماضی کی طرح ہارس ٹریڈنگ کی روایت دہرائی گئی، اسپیکر کے انتخاب میں ہمارے 12ووٹ دوسری طرف پڑ گئے، ہم نے احتجاج کیا تو ڈپٹی اسپیکر کو پورے ووٹ ملے۔انتخابات سے پہلے دھاندلی ہوئی ہمارے امیدواروں کو وفاداریاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا، ایک نااہل شخص نجی طیارے میں ہمارے ایم پی ایز کو بنی گالا کی یاترا کرواتا رہا مگر تمام تر تحفظات کے باو جود ایوانوںمیں آنے کا مقصد صرف اور صرف جمہوریت کی گاڑی کو چلانا ہے۔انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار پر قتل کے مقدمے میں دیت دی ان کےخلاف نیب میں کیسز زیر التوا ہیں ،عمران خان پانچ سال سے احتساب کا نعرہ لگاتے تھے مگر اب وہ ایسے لوگوں کو سپورٹ کررہے ہیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close