اہم خبریںپاکستان

گھبرانے والا نہیں،اب ملک بچے گا یا کرپٹ افراد: وزیراعظم

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت بے شمار چینلجز کا سامنا ہے لیکن قوم کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، میں ان سے نکلنے کا حل بتاو¿ں گا، اب ملک بچے گا یا کرپٹ افراد۔ ایک گھنٹہ اور 9 منٹ طویل قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت 28 ہزار ارب روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔ایک طرف قوم مقروض ہے دوسری طرف صاحب اقتدار اس ملک میں ایسے رہتے ہیں جیسے انگریز یہاں رہتے تھے جب ہم ان کے غلام تھے۔وزیراعظم کے پاس 80 گاڑیاں ہیں جن میں سے 33 بلٹ پروف ہیں، گزشتہ دور حکومت میں 75 کروڑ روپیہ بیرونی دوروں پر خرچ کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ سوا دو کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، آبادی بھی بڑھ رہی ہے اور اگر انہیں تعلیم نہ دی گئی تو ان بچوں کا کیا ہوگا۔مدینے کی ریاست کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے قانون کی بالادستی قائم کی، انہوں نے زکوة کا نظام قائم کیا، آج مغرب اس پر عمل کررہا ہے۔آج وقت ہے کہ ہم اپنی حالت بدلیں، ہمیں دل میں رحم پیدا کرنا ہوگا،45 فیصد بچوں کو صحیح غذا نہیں ملتی، ہمیں سوچ اور رہن سہن بدلنا ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ وہ اپنے استعمال کے لیے صرف دو ملازم دو گاڑیاں رکھیں گے، باقی تمام گاڑیاں نیلام کی جائیں گی اور ان سے ہونے والی آمدنی قومی خزانے میں شامل کی جائے گی۔ عمران خان نے کہا کہ جو قرضہ دیتا وہ آپ کی آزادی چھین لیتا ہے، قرضہ مختصر مدت کے لیے لیا جاتا ہے۔
کفایت شعاری کیلئے ٹاسک فورس بنائی جائے گی جس کی سربراہی ڈاکٹر عشرت حسین کریں گے۔ قوم کو اپنے پیر پر کھڑا کروں گا،میں وعدہ کرتا ہوں سب سے پہلے ایف بی آر کو ٹھیک کروں گا، روز عوام کو بتائیں گے کہ ہم کتنا عوام کا پیسہ بچارہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ وہ بیرون ملک موجود پاکستان کا پیسہ واپس لانے کے لیے ٹاسک فورس قائم کریں گے۔ ہر سال ایک ارب ڈالر بیرون ملک منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر چلا جاتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ غیر ملکی پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کریں گے، ہم چاہیں گے آپ اپنا پیسہ یہاں لائیں یا پاکستانی بینکوں میں پیسے رکھیں، ہمیں ڈالرز کی سخت ضرورت ہے۔
عمران خان نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے وہ ایک قانون سازی کریں گے جسے ‘وسل بلوور ایکٹ’ کا نام دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے تحت سرکاری محکموں میں جو بھی شخص کرپشن کی نشاندہی کرے گا اس کے نتیجے میں کرپشن کرنے والے شخص سے برآمد ہونے والی رقم کا 20 فیصد بطور انعام دیا جائے گا۔ چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ مشاورت کریں گے اور کوشش کی جائے گی کہ کوئی بھی کیس ایک سال سے زائد نہ چلے۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ کئی بیوہ خواتین کے کیسز کافی عرصے سے عدالت میں زیر التواءہیں،انہیں جلد از جلد نمٹایا جائے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جیل اور پولیس کا نظام بھی درست کریں گے۔اس سلسلے میں سابق آئی جی پولیس خیبر پختونخوا ناصر درانی کی خدمات حاصل کی جائیں گی، انہیں پنجاب حکومت کی کابینہ میں بطور مشیر شامل کیا جائے گا۔عمران خان نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں ہنگامی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے، 2 کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں انہیں تعلیم دینی ہے۔ ساتھ ہی مدرسے میں زیر تعلیم بچوں کو نظر انداز نہیں کرنا، میں چاہتا ہوں کہ مدرسوں میں پڑھنے والے بچے بھی آگے چل کر ڈاکٹر، انجینئر بنیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اپنے سرکاری اسپتالوں کا نظام ٹھیک کرنا ہے، جن دو صوبوں میں ہماری حکومت ہے وہاں خود اور سندھ حکومت سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ اپنا نظام درست کریں۔
انہوں نے اپنے خطاب کے دوران پورے ملک کے غریب گھرانوں کے لیے ہیلتھ کارڈ کا بھی اعلان کیا۔عمران خان نے کہا کہ ملک میں نیا بلدیاتی نظام لائیں گے جس میں ناظم براہ راست منتخب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ میں پیسہ وزیراعلیٰ کے پاس چلا جاتا ہے جو اراکین اسمبلیوں میں تقسیم کرتے ہیں، ایسا دنیا میں کہیں نہیں جوتا، آج دنیا میں جو ملک آگے ہیں ان کا بلدیاتی نظام بہترین ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بلا سود نوجوانوں کو قرضے دیئے جائیں گے، ان کے لیے کھیلوں کے گراو¿نڈز بنائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور اور کراچی میں کئی گراو¿نڈز میں قبضے ہوگئے ہیں، ہم نے بچوں کے لیے گراونڈز بنانے ہیں۔قبل ازیں نومنتخب وزیرِ اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب سے قبل بنی گالا میں اہم اجلاس طلب کیا۔اجلاس میں شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، اسد عمر، فواد چوہدری ودیگر رہنما شریک تھے۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وزیر اعظم کے قوم سے خطاب کے مندرجات پر غور کیا گیا، اس کے علاوہ اجلاس میں صدارتی انتخابات، کابینہ کی تشکیل سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close