بین الاقوامی

روہنگیا کی نسل کشی کی گئی،میانمارفوج نے جنگی جرائم کیے:اقوام متحدہ تفتیشی کمیشن

فوج نے ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو زبردستی ان کے علاقوں سے نکال باہر کیا ،ہمارے پاس شواہد بھی ہیں،خصوصی ماہرین کی رپورٹ

نیویارک:اقوام متحدہ کے تفتیشی کمیشن نے رپورٹ کیا ہے کہ میانمار کی فوج نے روہنگیا آبادی کے خلاف گھنانے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔غیرملکی خبررساںں ادارے کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت نسل کشی اور جنگی جرائم میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔عالمی ادارے کے خصوصی ماہرین نے اپنی رپورٹ میں بیان کیا کہ راکھین ریاست میں فوج نے ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو مجبور کیا کہ وہ علاقے سے نکل جائیں اور اِس آپریشن کے دوران نسل کشی کے شواہد بھی ملے ہیں۔
اس عالمی مشن کے مطابق راکھین کے علاوہ کاچین اور شان نامی ریاستوں میں بھی جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا اور یہ تمام اقدامات نسل کشی کے تحت قابل تعزیر ہیں۔اس مناسبت سے سلامتی کونسل سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ عالمی فوجداری عدالت کو اس رپورٹ پر کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کرے یا پھر خصوصی عدالت تشکیل دے کر ملوث افراد کو انصاف کٹہرے میں لایا جائے۔ تاکہ فوجداری تفتیش کی روشنی میں ایسے مبینہ ملزمان کو سزا سنائی جائے۔
حقائق جاننے والے آزاد مشن کے مطابق میانمار کی فوج کے پاس خواتین کے ساتھ کی گئی جنسی زیادتی، بچوں کے استحصال اور پورے پورے دیہات جلانے کی کوئی وجہ موجود نہیں تھی۔ یہ تمام اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔خصوصی ماہرین نے جمع کیے گئے شواہد اور حقائق کی بنیاد پر رپورٹ میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے والے طاقتور سربراہ مِن آنگ ہلینگ اور پانچ اعلی کمانڈروں کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی کے تحت تادیبی و تعزیری کارروائی کرنے کی پرزور سفارش کی ہے۔
رپورٹ مرتب کرنے والے ماہرین نے واضح کیا کہ میانمار کی نوبل انعام یافتہ خاتون سیاستدان اور با اثر لیڈر آنگ سان سوچی بھی ان ظالمانہ اقدامات کے دوران اپنی اخلاقی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ نوبل انعام یافتہ خاتون رہنما کو دنیا کے مختلف حلقوں کی تنقید کا بھی سامنا ہے۔اگست سن 2017 میں میانمار کی فوج کے آپریشن کے نتیجے میں سات لاکھ کے لگ بھگ روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچا کر اور مال و اسباب چھوڑتے ہوئے بنگلہ دیش میں داخل ہوئے تھے۔ ان کو اب کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔گزشتہ برس اگست میں جنسی استحصال کا نشانہ بننے والی کئی نوعمر اور جوان روہنگیا لڑکیوں کو ناپسندیدہ حمل کا سامنا بھی رہا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close