صحت

سمندری آلودگی سے آبی وسائل کیلئے شدید خطرات پیدا ہوگئے،ماہرین

کراچی :گذشتہ کئی دہائیوں سے ماہی گیری کا شعبہ سمندری آلودگی،ماہی گیری کے غلط طریقوںاورزائد ماہی گیری کی وجہ سے شدیدمتاثر ہوا ہے۔ماہی گیروں کیلئے تربیتی اور صلاحیتی تعمیر کے پروگرامز کے انعقاد سے نہ صرف ماہی گیروں کو مچھلیوں کے ذخائر میں کمی جیسے مسئلے سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ اس سے مقامی کمیونٹی کے ذرائع آمدنی میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہارماہرین نے WWF Pakistan کے تحت چلنے والے منصوبے Sustainable Fisheries Entrepreneurship کے حوالے سے منعقد کئے جانے والے لانگ لائن ماہی گیری کشتی اور آئس باکس کی تقسیم کے افتتاحی پروگرام میں کیا۔
واضع رہے کہ یہ منصوبے پاکستان کی مایہ ناز کمپنی اینگرو فاو¾نڈیشن کے تعاون سے کراچی کی تین ساحلی یونین کونسلوں بشمول ابراہیم حیدری، رحری گوٹھ اور مری پور میں شروع کیا گیا ہے۔جولائی 2016میں شروع ہونے والے اس منصوبے نے ماہی گیروں کو صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور مقامی ماہی گیروں کو متبادل ذرائع آمدنی کے مواقع فراہم کرنے میں مدد کی ہے۔اس موقع پر اینگرو وو پاک ٹرمینل کے سی ای او جہانگیر پراچہ نے کہا کہ ماہی گیری کے وسائل کی حفاظت اینگرو کی ترجیحات میں شامل ہے اور ہم مقامی کمیونٹی کے طرزِ زندگی کو بہتر بنانے پرخاص توجہ دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اینگرو بہت سارے ماحولیاتی اقدامات کا حصہ ہے اور اس سلسلے میں اینگرو نے پورٹ قاسم اور قریبی علاقوں میں 5000ہیکٹر پر پھیلے ہوئے منگرووز کو بحال کرنے میں مدد کی ہے۔واضع رہے کہ منگرووز نہ صرف لوگوں کی خوراک کا ذریعہ ہیںبلکہ مچھلیوں کیلئے بھی نرسری کا کام سر انجام دیتے ہیں۔انہوں نے سندھ بھر میں مہارت اور تعلیم کے مختلف پروگرامات کے ذریعے ان کمیونی ٹیز کی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔اس موقع پر WWF Pakistanکے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں رہنے والی کمیونٹیز کو ذرائع آمدنی کے مواقعوں میں شدیدکمی کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی ماہی گیری کے طریقے اور سمندری آلودگی نہ صرف مچھلیوں کی نسل کیلئے بلکہ دوسرے آبی ذرائع کیلئے بھی خطرات کا باعث ہے ۔انہوں نے بتایا کہ مقامی ماہی گیروں کے ساتھ صلاحیت کی تعمیر کے پروگرامز کے انعقاد کے نتیجے میں ڈولفن، شارک، وہیل اور دیگر آبی حیات کے بچاومیں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے ساحلی علاقوں کے نوجوانوں کی تعلیم پر زور دیا جو سمندری وسائل کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے آبی آلودگی کو سمندری وسائل کے خاتمے کا اہم سبب قراردیااور اس مسئلے کے جدید حل پر زور دیا۔تقریب کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ کمیونٹی کو درپیش چیلنجز میں ٹھوس فضلے اور گندگی کی سمندری پانی میں ملاوٹ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی آلودگی سب سے بڑا چیلنزہے۔بھینس کالونی سے پلاسٹک فضلے سمیت ٹھوس فضلے ، پورے شہر سے نالوں کے ذریعے پلاسٹک کے فضلے ، کورنگی اور پورٹ قاسم انڈسٹریل ایریاسے کیمیکل کی بو نے سمندری پانی کو کافی حد تک آلودہ کردیا ہے۔اس اعلی درجے کی آلودگی کی وجہ سے سمندر میں موجود مچھلیوں کے ذخائر میں دن بدن کمی ہوتی جا رہی ہے جس ماہی گیری کمیونٹی براہِ راست متاثر ہورہی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close