اہم خبریںپاکستان

آصف زرداری کی ضمانت منظور ،4ستمبر کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم

کراچی :منی لانڈرنگ کیس میں بینکنگ کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی ضمانت منظور کر تے ہوئے 20لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کو پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر کراچی کی بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے ۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے آصف زرداری کو 3 ستمبر تک متعلقہ ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔سابق صدر کی عدالت آمد سے قبل بم ڈسپوزل اسکواڈ نے عدالت کا معائنہ کیا جس کے بعد بینکنگ کورٹ کو کلیئرقرار دیا گیا۔ عدالت نے آصف زرداری کی 20 لاکھ کی عبوری ضمانت منظورکرتے ہوئے انہیں 4 ستمبر کو دوبارہ طلب کرلیاہے۔
اس موقع پرآصف زرداری نے خوشگوار انداز میں میڈیا سے بات کی، صحافی نے آصف زرداری سے سوال کیا کہ ہیلی کاپٹر تو سستا ہوگیا آپ ہیلی کاپٹر پر کیوں نہیں آئے ؟، جس پر آصف زرداری نے خوشگوار انداز میں جواب دیا کہ آپ لوگ یہیں رکیں میں ہیلی کاپٹر پرواپس آتا ہوں، ایک صحافی کے سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ سیاست دان کے خلاف کوئی بھی مقدمہ غیر سیاسی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اعتزاز احسن ہی صدر بنیں گے۔اس موقع پر صحافی نے ایک بار پھر پوچھا کہ آپ کو یقین ہے کہ اعترازاحسن ہی صدر پاکستان بنیں گے ؟ اس بار جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اعتزازاحسن صدر بنیں۔
صحافی نے سوال کیا کہ زرداری صاحب کافی عرصہ بعد کورٹ میں ملاقات ہورہی ہے، جس پر انہوں نے جواب میں کہا کہ آپ بلائیں تو میں روز آجایا کروں گا۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ منی لانڈرنگ کا معاملہ بینکنگ کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں، ان کے موکل کے خلاف بے بنیاد چارج شیٹ تیار کی گئی ہے۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آصف زرداری پر دباو ڈالنے کے لیے اس کیس میں شامل کیا گیا جب کہ ایف آئی آر بھی بے بنیاد ہے اور آصف زرداری کو پھنسانے کے لیے دائر کی گئی۔آصف زرداری کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی آر میں ان کے موکل کو ملزم ظاہر نہیں کیا گیا، 2008 میں صدر بننے کے بعد آصف زرداری نے کمپنی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔واضح رہے کہ جعلی بینک اکاونٹس کیس میں اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید، غنی مجید، حسین لوائی اور طحہ رضا گرفتار ہیں جب کہ آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور اور انور مجید کے 3 صاحبزادے عبوری ضمانت پر ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close