اہم خبریں

لاہور ہائیکورٹ : شریف فیملی کی سزاﺅں کےخلاف درخواستیں خارج

لاہور: ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیر اعظم نوازشریف، انکی صاحبزادی مریم نواز اور داما کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاﺅں کے خلاف درخواستیں خارج کردیں۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس شاہدجمیل خان پر مشتمل تین رکنی فل بینچ نے نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی سزاﺅں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔درخواست گزار نے موقف اپنایا تھا کہ نیب قانون کا آرڈیننس سابق صدر پرویز مشرف نے جاری کیا لیکن 18 ویں ترمیم کے بعد ختم ہوچکا ہے، تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص کواس قانون کے تحت سزادی گئی جو ختم ہوچکاہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کو مردہ قانون کے تحت سزا دی گئی لہٰذا عدالت نیب کے مردہ قانون کے تحت دی سزا کو کالعدم قرار دے۔فاضل عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جو کچھ دیر بعد سنایا گیا۔عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے نیب آرڈیننس 1999ءکو کالعدم قرار دینے اور تینوں شخصیات کی سزاﺅں کےخلاف درخواستیں خارج کردیں۔
واضح رہے کہ نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزاﺅں کی معطلی کی ایک درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی دائر ہے جس پر عدالت نے سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کررکھا ہے جو عدالت نے 20اگست کو سنانے کی بجائے موخر کردیا۔یاد رہے کہ سابق وزیراعظم، ان کی صاحبزادی اور داماد کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی ہے جس کے بعد نوازشریف اور مریم کو پاکستان واپسی پر گرفتار کیا گیا جبکہ کیپٹن (ر) صفدر کو نیب حکام نے راولپنڈی سے گرفتار کیا اور تینوں شخصیات اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close