پاکستان

اعتزاز احسن سے بہتر صدارتی امیدوار نہیں ہوسکتا:قمر زمان کائرہ

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ اعتزاز احسن سے بہتر صدارتی امیدوار نہیں ہوسکتا،مولانا فضل الرحمان نے ہماری بات مان لی تو الیکشن جیت لیں گے ،سیاسی سفر میں معافیاں نہیں مانگی جاتیں اگر یہ روایت چلی تو پیپلز پارٹی سے ہر جماعت کو معافی مانگنی پڑے گی،اپنے صدارتی امیدوار کے لیے ووٹ مانگنے نواز شریف کے پاس جیل جانے کو بھی تیار تھے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور کے مقامی ہوٹل میں صدارتی امیدوار اعتزاز احسن ، خورشید احمد شاہ ،چوہدری منظور ، سید حسن مرتضی اور دیگر رہنماﺅں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ صدارتی انتخابات میں اعتزاز احسن کی حمایت کے لئے پنجاب کے ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کریں گے ، ،پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن کی شکل میں بہترین امیدوار نامزد کیا ،خواہش اور کوشش تھی کہ اپوزیشن بھی اس نام پر متفق ہو جاتی،اعتزاز احسن ہر دور میں جمہوریت کی بقاءکیلئے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے آمریت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان ہماری بات مان کر دسبردار ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ صدر کے اختیارات اب اتنے نہیں رہے لیکن اگر اعتزاز احسن جیسا صدر ہو تو اس عہدے کو چار چاند بھی لگ جائیں گے اور اختیارات بھی بن جائیں گے،ہم کوشش کریں گے کہ (ن) لیگ ہمیں ووٹ دے اور اسے دینا بھی چاہئے کیونکہ (ن) لیگ کیلئے اعتزاز احسن نے عدالتوں میں کھڑے ہو کر کتنے ہی کیس لڑے۔
ایک سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ نے کہا کہ سیاسی سفر میں معافیاں نہیں ہوتیں نہ ہی معافی مانگی جاتی ہے اگر یہ روایت چل پڑی تو پیپلز پارٹی سے ہر کسی کو معافی مانگی پڑے گی،پرویز رشید نے جو بیان دیا تھا وہ ان کا ذاتی بیان تھا اوہ یہ بات مسلم لیگ (ن) بھی کہہ چکی ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نواز شریف سے اتحاد کرنا بے نظیر بھٹو کی مجبوری تھی ۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جب تحریک انصاف امیدوار نامزد کر دیتی ہے تو پھر ان کو خیال آتا ہے کہ یہ تو غلطی ہوگئی اور پھر اس پر وضاحتیں دیتے ہیں، ہم نے اعتزاز احسن کا نام تجویز کیا تھا انہیں نامزد نہیں کیا تھا اور پیپلز پارٹی کا ہوم ورک تھا جو ہر جماعت کرتی ہے اور اس کا حق ہے یہ کرنا لیکن میڈیا پر غلط خبریں چلائی گئیں اور ہم نے اس کی اسی دن وضاخت بھی کی ،ہم مسلم لیگ کی حمایت حاصل کرنے کیلئے نواز شریف کے پاس جیل جانے کو بھی تیار تھے لیکن کچھ وجوہات کی بناءپر پہنچ نہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد دھاندلی کے خلاف بنایا گیا تھا ، ہم اپوزیشن میں باقی جماعتوں کے ساتھ ملکر بھی اپوزیشن کریں گے اور اکیلے بھی،مولانا فضل الرحمان ہمارے دوست ہیں ہمارا ان سے کوئی مقابلہ نہیں جب تلخی پیدا ہوئی تو مولانا کو ثالثی کا کہا انہوں نے جواب دیا کہ کوشش کروں گا،اپوزیشن کوئی رسمی اتحاد نہیں ہے آئندہ معاملات میں کوشش کریں گے کہ مل کر چلیں ۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہپیپلز پارٹی میدان میں ہے اگر مولانا دستبردار ہو گئے تو ہم جیت جائیں گے۔ضمنی انتخابات کے حوالے سے ابھی مشاورت جاری ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close