صحت

بلڈ پریشر کی دوائیں کھانے کے بجائے یوگا کیجیے :ماہرین

اونٹاریو: ایک سروے کے بعد ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ بلڈ پریشر کے مریض اگر دوا کھانے کے بجائے صرف یوگا کی مشقیں انجام دیں تب بھی دوائیں استعمال کرنے جیسا فائدہ ہوتا ہے۔یورپی تنظیم برائے امراضِ قلب کی ایک کانفرنس میں پیش کردہ تحقیقی مقالے میں کہا گیا ہے کہ باقاعدہ یوگا سے بلڈ پریشر کو عین دواوں کی طرح قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ روزانہ صرف 15 منٹ یوگا اور سانس کی مشقوں سے بلڈ پریشر میں 10 فیصد تک کمی کی جاسکتی ہے۔

اس تحقیقی سروے میں 60 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ اس میں شرکا کو ان کی مرضی کے مطابق، گہرے سانس کی مشقیں، سکون آور آسن، ابتدائی یوگا پوزیشن یا صرف جسم کو کھینچنے کی ورزشیں کرائی گئیں۔ ان میں سے یوگا کرنے والے شرکا کے گروپ میں لوگوں کے بلڈ پریشر میں دس فیصد کمی نوٹ کی گئی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحقیق کو ایک 16 سالہ طالبعلم اشوک پانڈے نے اسکول پروجیکٹ کے طور پر انجام دیا تھا اور اس پر مبنی ایک تحقیقی مقالہ بھی لکھ ڈالا جسے اب تک 30 ہزار سائنسدانوں نے پڑھا جس کے بعد اسے کینیڈا اور جرمنی میں امراضِ قلب کی کانفرنسوں میں بھی پیش کیا گیا۔

اشوک نے کہا کہ بھارتی تہذیب میں صدیوں سے یوگا کو بلڈ پریشر بہتر بنانے کےلیے استعمال کیا جاتارہا ہے لیکن جدید دنیا اس سے ناواقف ہے۔ اشوک کے والد امراضِ قلب کے ماہر ہیں اور اشوک نے انہیں بتایا کہ یوگا بلڈ پریشر کےلیے جادوئی علاج کی حیثیت رکھتا ہے۔پہلے مطالعے کے اثرات اتنے مثبت تھے کہ اب اگلے مرحلے میں اشوک لاول یونیورسٹی کے تعاون سے مزید 500 افراد پر یوگا اور بلڈ پریشر کے اثرات کو نوٹ کریں گے۔ یوگا ماہرین کا خیال ہے کہ گہرے سانس لینے سے بلڈ پریشر پر فرق پڑتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close