پاکستان

ڈیمز کی تعمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا: چیف جسٹس ثاقب نثار

اسلام آباد:چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ملک میں ڈیمز کی تعمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا  جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بیچ نے ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ایک سیاست دان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو علیحدہ سیاسی جماعت بنالینی چاہیے، یہ الفاظ انہیں کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے ڈیمز کی تعمیر پر تنقید کا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈیمز کی تعمیر بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے،ان کی تعمیر میں جو لوگ مخلافت کر رہے ہیں وہ کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ وہ ایجنڈا ہے جو چاہتا ہے کہ پاکستان میں ڈیمرز تعمیر نہ ہوں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ بے شک کوئی کتنا بڑا ہی سیاست دان یا اپوزیشن لیڈر ہی کیوں نہ ہو، ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ ڈیم نہ بننے کے ایجنڈے کو پورا نہیں ہونے دیں گے اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کے لیے ڈیم ہر صورت بنائے جائیں گے۔سماعت کے دوران سیکرٹری آپاشی نے بتایا کہ حکومت پنجاب اراضی کے حصول کے لیے فنڈ مختص کر چکی ہے جبکہ ڈیم کے ساتھ 11 ہزار کنال بحریہ ٹاو¿ن اور ڈی ایچ اے کی زمین ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت کو بحریہ ٹاو¿ن سے ڈیم کی تعمیر کروانے میں کیا رکاوٹ ہے مجھے پتا ہے اور یہ وجہ یہ ہے کہ کمیشن مافیا کا کمیشن مارا جائے گا، تب ہی رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں کسی کو نہ ہی ضرب لگانے دوں گا اور نہ ہی کمیشن کھانے دونگا ہر منصوبے میں کمیشن لیا جاتا ہے، خدا کا خوف کریں یہ ڈیم کمیشن کی وجہ سے ہی التواءکا شکار ہے، خدارا ملک و قوم کے مستقبل کے لیے سوچیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں آئندہ ہفتے لاہور میں ہی ہوں اس دوران وزیرِاعلیٰ پنجاب اور ان کی پوری کابینہ کو طلب کریں گے، جس پر سیکرٹری آب پاشی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو بلانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ معاملات میں ہی دیکھ رہا ہوں۔عدالت نے حکومت پنجاب کو ڈیم کی تعمیر کے لیے بحریہ ٹاو¿ن کے پروجیکٹ کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے تحریری سفارشات عدالت میں جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close