پاکستان

کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ سپریم کورٹ اپنی سیاسی جماعت بنائے : چیف جسٹس ثاقب نثار

اسلام آباد:سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاہے کہ کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ سپریم کورٹ اپنی سیاسی جماعت بنائے۔بدھ کو سپریم کورٹ میں ڈوڈوچہ ڈیم تعمیر کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ سپریم کورٹ اپنی سیاسی جماعت بنائے، سیاست کرنی ہے تو کہیں اور جاکر کریں، ڈیم کے مخالفین کو آخری وارننگ دے رہے ہیں، یہ سیاسی نہیں بنیادی حقوق کے مقدمات ہیں  جو عدالت کو بدنام کریں گے انھیں ایسے نہیں جانے دیں گے، جو پاکستان میں ڈیم نہیں دیکھنا چاہتے ان کا ایجنڈا پورا نہ کریں۔
سیکرٹری آبپاشی نے عدالت کو بتایا کہ ڈیم محکمہ زراعت کو تعمیر کرنا ہے، بحریہ ٹاﺅن ہماری مالی معاونت کرے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بحریہ ٹاﺅن حکومت پنجاب کا فنانسر نہیں ہے، اصل ایشو ڈیم پر کمیشن کا ہے ، نجی کمپنی نے ڈیم بنایا تو کمیشن نہیں ملے گا ¾ہر کام پر کمیشن نہیں ہونا چاہیے، ذرا سوچیے کہ یہ ڈیم صوبے کے عوام کےلئے کتنا ضروری ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ حکومت پنجاب ٹائم فریم دے کہ کب تک ڈیم بنالیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب بتائیں کہ ڈوڈوچہ ڈیم کب تک بن جائےگا، کیا وزیراعلیٰ پنجاب کو آئندہ سماعت پر بلالیں۔عدالت نے حکومت پنجاب کو پروپوزل میں ڈیم کی تعمیر اور تکمیل کا ٹائم فریم فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close