اہم خبریں

شاہ محمودقریشی کادورہ کابل،صدراشرف غنی ،چیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں،صدراشرف غنی کو دورہ پاکستان کی دعوت

اسلام آباد/کابل:پاکستان نے افغان پولیس اور قانون نافذ کرنیوالی ایجنسیوں کو تربیت دینے کی پیشکش کرتے ہوئے افغانستان کے دیگر شراکت داروں کے ہمراہ افغان امن عمل اور مفاہمت کے لئے اپناتعمیری کردار جاری رکھنے کے عزم کااعادہ کرتے ہوئے افغان مہاجرین کی باوقاروطن واپسی اورآباد کاری کی ضرورت پر زوردیاہے ،جبکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کی سیکیورٹی اوراسے فعال بنانے کے حوالے سے امورجلدنمٹانے پراتفاق کیاہے۔وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ ہفتہ کو افغان دارالحکومت کابل کادورہ کیا، وزیرخارجہ نے افغان صدرمحمداشرف غنی اور چیف ایگزیکٹوڈاکٹرعبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی اور اپنے افغان ہم منصب صلا ح الدین ربانی کے ساتھ وفود کی سطح پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیرخارجہ نے افغان قیادت سے ملاقاتوں کے دوران آگاہ کیا کہ پاکستان کی نئی حکومت افغانستان کے ساتھ نئے تعلقات کو اہمیت دیتی ہے اور وہ تجارت کے فروغ اورزمینی رابطوں کے شعبوں میں تعلقات بڑھانے کیلئے کام کرے گی ۔ انہوں نے افغانستان میں پائیدا رامن کی غرض سے حکومت کی طرف سے قومی اتفاق رائے کی کوششوں میں حمایت کا یقین دلایا انہوں نے افغان قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان افغانستان کے دیگر شراکت داروں کے ہمراہ ملک میں افغانوں کی قیادت اور شمولیت پرمبنی امن عمل اور مفاہمت کے لئے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان انسدا د دہشت گردی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے افغان پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو پاکستانی اداروں میں تربیت دینے کی پیشکش کی ۔وزیرخارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے زیادہ روابط کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ ان رابطوں سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور مفاہمت کے فروغ میں مدد ملی ہے۔انہوں نے زوردیاکہ دوطرفہ تعلقات کے اس رجحان کومزید اعلیٰ سطح کے دوروں کے ذریعے آنے والے مہینوں میںجاری رکھاجاناچاہیے۔
انہوں نے افغان صدراشرف غنی کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ کے تناظر میں پاکستان نے افغانستان سے درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کافیصلہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں افغانستان سے پاکستان کوبرآمدات میں 2018ءکے دوران 118فیصد کانمایاں اضافہ ہوا۔وزیرخارجہ نے کہاکہ پاکستان کسٹم کے قواعدوضوابط کی معیاربندی ،انہیں خودکاربنانے اوردونوں ممالک کے درمیان کراسنگ پوائنٹ پرانفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے،افغان طلباءکے وظائف کے دوسرے مرحلے میں تین ہزاروظائف کی غرض سے تیزی سے اقدامات اٹھائے گا،600سے زائد افغان طلباءآئندہ خزاں میں اپناسمسٹر شروع کردیں گے۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان عوام کے لئے چالیس ہزار ٹن گند م کے تحفے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے افغان صدر کے نام خط بھی حوالے کیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے چاراجلاسوں بشمول مشترکہ اقتصادی کمیشن، افغان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ کوآرڈینیشن اتھارٹی کااجلاس بلانے ،مشترکہ علماءکانفرنس کی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس بلانے اور افغان پاکستان ایکشن پلان برائے امن واستحکام ( اے پی اے پی پی ایس) کے ورکنگ گروپس کے اجلاس کے حوالے سے بھی فیصلے کئے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر پاکستان کے عوام کی جانب سے افغا ن بھائیوں اوربہنوں کی ناقابل مثال میزبانی کا ذکر کرتے ہوئے فغان مہاجرین کی بتدریج اور مخصوص وقت کے منصوبے کے مطابق اپنے وطن باوقار اورپائیدار واپسی اور آباد کاری کی ضرورت پر زوردیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان کے قونصل خانہ کو جلال آباد میں ضروری سیکیورٹی کی فراہمی کے حوالے سے امور میں تیزی لانے اور اس کو جلدفعال بنانے پربھی اتفاق کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close