کاروبار

اسد عمر کی کویتی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو تیل و گیس اور سی پیک کے تحت منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت

پاکستان اور کویت برادر اور دوست ممالک ہیں، کویت سماجی و اقتصادی ترقی میں کردار ادا کر سکتا ہے ،کویتی وزیر تجارت

اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کویتی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو تیل و گیس اور سی پیک کے تحت منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواہش ہے خطہ کے عوام کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانے کیلئے ہمارے تمام دوست ممالک سی پیک میں شامل ہوں،دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافہ کیلئے تجارت کے شعبہ میں تعاون کو فروغ دینا ہو گا ۔وہ جمعرات کو یہاں مقامی ہوٹل میں پاکستان اور کویت کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ کویت کے وفد کی قیادت کویت کے وزیر تجارت خالد ناصر عبداﷲ نے کی جبکہ اجلاس میں وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر، اقتصادی امور ڈویژن کے سیکرٹری سےد غضنفر عباس جیلانی اور مختلف وزارتوں کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے پاکستانی تاجروں، سرمایہ کاروں اور ورکروں کیلئے کویت کے ویزا سہولیات کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجہ میں دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے، پاکستانی ورکر کویت کے مختلف شعبوں بشمول انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تیل و گیس میں کویت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے نجی شعبہ کے درمیان تعلقات اور تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے ایوانہائے صنعت و تجارت کے درمیان روابط کو فروغ دینا ضروری ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سی پیک ایک وسیع تر منصوبہ ہے جس کا حجم 50 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، اس وقت 27 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے نفاذ کے مرحلہ میں ہیں، سی پیک کے منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے ہمارا چین کے ساتھ قریبی اشتراک کار ہے اور ہم سی پیک کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ خطہ کے عوام کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانے کیلئے ہمارے تمام دوست ممالک سی پیک میں شامل ہوں۔
دوطرفہ تجارت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت کویت کو پاکستانی برآمدات کا حجم 91 ملین ڈالر ہے جبکہ تجارت کے شعبہ میں استعداد اس سے کہیں بڑھ کر ہے، دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافہ کیلئے تجارت کے شعبہ میں تعاون کو فروغ دینا ہو گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جاپانی ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت نے بھی تجارت، سرمایہ کاری اور صنعت کو ون ونڈو کے تحت رکھا ہے تاکہ ان شعبوں کو مزید مو¿ثر بنایا جا سکے۔اسد عمر نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ کے فروغ کیلئے حکومت آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی جو دنیا کی سرفہرست یونیورسٹیوں میں شامل ہے، کے تعاون سے سائنس و ٹیکنالوجی کی یونیورسٹیاں قائم کرے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close