اہم خبریں

جہانگیر ترین کی نا اہلی برقرار، سپریم کورٹ نے نظر ثانی کی درخواست خارج کر دی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کی نااہلی برقرار رکھتے ہوئے ان کی نظرثانی کی درخواست خارج کر دی ہے ۔ جمعرات کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی نظرثانی درخواست کی سماعت کی ۔سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کی نااہلی کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست بھی مسترد کردی جس کے بعد وہ پارلیمانی سیاست سے باہر ہوگئے اور کوئی بھی عوامی عہدہ نہیں رکھ سکتے۔عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے ایک موقع پر جہانگیر ترین کے وکیل سکندر مہمند جذباتی ہوگئے اور تیز آواز سے بولنا شروع ہوئے۔
عدالت نے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اپنی آواز نیچے رکھیں اور چیخیں مت، عدالت کے احترام کو مدنظر رکھیں جس پر سکندر بشیر مہمند نے کہا کہ معافی چاہتا ہوں مجھے اونچا بولنے کی عادت ہے۔ چیف جسٹس نے وکیل کو کہا کہ ہم کیس کی دوبارہ سماعت نہیں کر رہے،آپ اب دستاویزات دے رہے ہیں، عدالت مانگتی رہی لیکن فراہم نا کی گئیں اور ٹرسٹ ڈیڈ بھی آخر میں فراہم کی گئی ،کیا آپ نے سنا ہے کہ لڑائی کے بعد یاد آنے والا تھپڑ کہاں مارنا چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اب لہر یہ ہے کہ لیڈر پیسہ ملک میں لائیں، باہر سے پیسہ ملک میں لایا جانا چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے موکل اتنے بڑے لیڈر ہیں کبھی انہوں نے سوچا کہ یہ پیسہ ملک میں واپس آنا چاہیے، جب فیصلہ پڑھ رہا تھا تو آپ نے کمپنی اور شیئر بھی خریدے، کوئی عوامی عہدے دار ایسی مشکوک ٹرانزکشن کیسے کر سکتا ہے؟۔سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت جہانگیر ترین کو تاحیات نااہل قرار دینے کا دسمبر 2017 کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ان کی نظرثانی درخواست مسترد کردی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close